Daily News and truth story: Daily Social News
Showing posts with label Daily Social News. Show all posts
Showing posts with label Daily Social News. Show all posts

Wednesday, January 14, 2026

social news


 




saudia news

 




ریاض



حکومت

 - میئر     عبداللہ بن عبدالرحمان

 - گورنر منطقہ ریاض     فیصل بن بندر آل سعود

رقبہ

 - کُل     501.9 میل2 (1,300 کلومیٹر2)

بلندی     612 میٹر (2,008 فٹ)

آبادی (2010)[1]

 - کُل     5,700,000

منطقۂ وقت     عربیہ معیاری وقت (یو ٹی سی+3)

پوسٹل کوڈ     (5 ہندسیں)

رموز علاقہ     +966-11

ویب سائٹ     www.arriyadh.com

ریاض، سعودی عرب


ریاض مملکت سعودی عرب کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے جو علاقہ نجد کے صوبہ الریاض میں واقع ہے۔ 2005ء، سعودی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق ریاض شہر کی آبادی بیالیس لاکھ ساٹھ ہزار ہے جو سعودی عرب کی کل آبادی کا 20 فیصد ہے۔

تاریخ


اسلام سے پہلے کے ادوار میں یہ علاقہ ہجار کے نام سے آباد تھا۔ علاقہ موسمی ندیوں سے سراب ہوتا ہے، اور کئی علاقوں میں زیر زمین پانی تک رسائی ممکن ہے۔ تاریخی اعتبار سے علاقہ باغیچوں اور کھجور کے لیے مشہور تھا، اور ریاض کے معنے بھی باغ کے ہیں۔ موجودہ نام شروع میں صرف چند علاقوں کے لیے استعمال کیا گیا جہاں باغات تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سارا علاقہ ہی اسی نام سے جانا جانے لگا۔


اٹھارویں صدی عیسوی تک ریاض، سعودی ریاست کا حصہ تھا جسکا دارالحکومت درعیہ تھا۔ 1818ء میں ترکوں کے ہاتھوں درعیہ کی تباہی کے بعد ریاض کو دارالحکومت بنایا گیا۔ 1902ء سے عبدالعزیز بن عبدالرحمن السعود نے تعمیر نو شروع کی اور ریاض دارالحکومت کے ساتھ 1932ء میں جدید سعودی عرب کی بنیاد ڈالی۔ سفارتی دارالخلافہ 1982ء تک جدہ ہی رہا۔ 1960ء میں شہر کی آبادی جو پچاس ہزار نفوس پر مشتمل تھی اب بڑھ کر پنتالیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جسکی وجہ سے شہر کو کئی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ شہر کی منصوبہ بندی آبادی بڑھنے کی اتنی تیز رفتار کو مدنظر رکھ کر نہیں کی گئی تھی۔


کسی دور کا ایک چھوٹا قصبہ اب دنیا کے بڑے شہروں میں شامل ہو چکا ہے۔ آبادی میں پہلا بڑا اضافہ 1950ء میں تیل کی دولت کے استعمال کی شروعات سے ہوا جب قدیم حصوں کو گرا کر جدید صنعتی تعمیرات کا آغاز کیا گیا۔ آج ریاض دنیا کے تیزی سے بڑھتے شہروں میں سے ایک ہے۔

شہری انتظام


شہر کو 17 انتظامی میونسپلٹیوں میں تقسیم کیا گیا ہے جو مرکزی ریاض میونسپلٹی اور ریاض ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت کام کرتی ہیں جسکا سربراہ صوبہ ریاض کا گورنر ہوتا ہے۔ ہر میونسپلٹی اپنے علاقہ کے انتظامات کی زمہ دار ہے، اور ان میں سے ہے علاقہ اپنی سی خصوصیات رکھتا ہے۔ ان میں سے چند ایک اہم علاقہ درج ذیل ہیں۔


    البطحا شہر کا مرکز ہے، اور شہر کا قدیم ترین علاقہ ہے، اور یہاں ہی قصرالمسمک واقع ہے جو انیسویں صدی عیسوی میں حکمران السعود خاندان کی رہائش گاہ رہا۔ یہ سیاحوں کی لیے خاص کشش لیے ہوۓ ہے، اسکے علاوہ مغرب میں ریاض کا عجائب گھر واقع ہے۔

    علیا ڈسٹرک شہر کا روح رواں ہے جو شہر کا صنعتی اور رہائشی علاقہ کہا جا سکتا ہے۔ جو خریداری و تفریح کے مواقع لیے ہوۓ ہے۔

    سفارتی علاقہ (Diplomatic Quarter or DQ) غیر ملکی سفارتخانوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اسکے علاوہ یہاں موجود باغوں اور کھیل کے میدانوں کی وجہ سے اسکو شہر کا سر سبز و شاداب علاقہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ اسلامی دنیا کے لیے ایک شہر نمونہ کے طور پر ہے۔

    قصرالحکم وہ علاقہ ہے جہاں اسی نام کا انصاف محل موجود ہے جہاں گورنر عام لوگوں سے ملتا ہے اور انکے مسائل سن کر حل کے لیے احکامات جاری کرتا ہے۔ یہ علاقہ بھی اپنی قدیم عمارتوں کی وجہ سی خاصی شہرت رکھتا ہے۔

    الخبر زیادہ تر غیر ملکی تارکین وطن کا پسندیدہ علاقہ ہے۔

    الدرا کا علاقہ کاروباری مراکز اور روائتی عمارتوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے اور یہاں ہی مشہور زمانہ شاہی محل الموئکلہ واقع ہے۔

    صلاح الدین کا علاقہ اپنے کاروباری مراکز اور ہوٹلوں کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں سے بھرا رہتا ہے۔


موسمیات


ریاض چونکہ ریگستان میں ہے اور دنیا کی وسطی علاقوں میں سے ہے اس لئے یہاں سورج زیادہ پڑتا ہے اورگرمی زیادہ ہوتی ہے۔ریاض میں گرمی کا موسم سب سے زیادہ مدّت تک رہتا ہے تاہم سردی بھی بہت سخت ہوتی ہے لیکن سردی کا موسم کم عرصے تک رہتا ہے۔



مآخذ: مردم شماری ڈیٹا


ریاض شہر کی آبادی 1935 میں 40 ہزار تھی اور1949 میں 83 ہزار تک پہنچی۔شہر کی آبادی کہیں دہائیوں میں تیزی سے بڑھتی گئی 1960 میں آبادی 5 ملین سے تجاوز کرگئی۔

اہم عمارات


    ریاض ٹی وی ٹاور 170 میٹر بلند ٹیلیویژن کا نشریاتی مینار ہے جو 1978ء سے 1981ء کے درمیان تعمیر کیا گیا۔

    الفیصلیا مرکز بلند و بالا عمارات میں سے پہلی تعمیر ہے جو اب شہر کی دوسری سب سے اونچی عمارت ہے۔ عمارت کے اوپر گیند نما گنبد بنایا گیا ہے جسکے اندر ریٹورینٹ ہے اور نیچے والی منزلوں میں بین الاقوامی معیار کا خریداری مرکز بنایا گیا ہے۔

    برج المملکہ یا کنگڈم سینٹر سعودی عرب کی موجودہ سب سے اونچی عمار ت ہے۔

    الراجی ٹاور زیر تعمیر ہے جو 2009ء میں مکمل ہونے کے بعد سعودی عرب کی سب سے اونچی عمارت ہو گا۔

    شاہ خالد بین الاقوامی ائر پورٹ یا کنگ خالد انٹرنیشنل ائر پورٹ

    شاہ فہد سٹیڈیم یا کنگ فہد اسٹیڈیم

    قصرالمسمک

    شاہ الحکم یا قصرالحکم

    دیرا چوک، دیرا مسجد کے سامنے وہ جگہ ہے جہاں مجرموں کا سر کاٹ کر جدا کیا جاتا ہے۔


Tuesday, October 14, 2025

daily news

پاکستان
آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے، پاکسان کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر ملیں گے

آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے، پاکسان کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر ملیں گے


   
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔
منگل کو جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منظوری کے بعد پاکستان کو ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کی ادائیگی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
اس ادائیگی کے بعد پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت ملنے والی رقم کی مجموعی مالیت تین اعشاریہ تین ارب ڈالر ہو جائے گی۔
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر دیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ آئیوا پیٹروکا کی سربراہی میں ٹیم نے 24 ستمبر سے آٹھ اکتوبر کے دوران واشنگٹن ڈی سی، کراچی اور اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں، اس دوران مختلف مالیاتی امور پر بحث کی گئی اور اس کے بعد معاہدہ طے پایا۔
 معاہدہ طے پانے سے چند گھنٹے قبل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے اسی ہفتے ہی ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو جائیں گے۔
اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ستمبر کے اواخر میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ امریکہ میں ملاقات کی تھی۔
نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورت حال کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مارکیٹ میں اعتماد بحال ہو رہا ہے اور پروگرام معاشی استحکام پیدا کرنے میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری قرضوں کی شرح بھی کم ہو رہی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے (فوٹو: روئٹرز)

مالیاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 14 سال کے دوران پہلی بار سرپلس سامنے آیا ہے اور ملک کے مالیاتی معاملات درست سمت میں آگے بڑھے ہیں۔
آئی ایم ایف سے قرض لینے والے ملکوں کے لیے باقاعدگی سے جائزے پاس کرنا ضروری ہوتا ہے، اور اس مرحلے سے گزرنے کے بعد جب ایک بار فنڈ کا ایگزیکٹیو بورڈ منظوری دے دے تو پھر قرضوں کی قسطوں کا اجرا متحرک ہو جاتا ہے۔
آئی ایم ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ریکوری درست سمت ہے تاہم افراط زر اب بھی موجود ہے مگر مالیاتی حالات مجموعی طور پر بہتر

Sunday, October 12, 2025

dailynews

 

’اگر طالبان حکومت انڈیا کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے، تو پاکستان کی ریاست اور عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک افغانستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ کر دیا جائے۔‘
ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا اور ہر اشتعال انگیزی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ 
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بے باک قیادت میں پاک فوج نے افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے، ان کو پسپائی پر مجبور کیا‘
 افغانستان کی اشتعال انگیزی کا نہ صرف بھرپور جواب دیا بلکہ ان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کر کے، ان کو پسپائی پر مجبور کیا‘
’ہمارا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ہم ملک کے چپے چپے کا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔ پاک فوج نے ہمیشہ ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔‘

افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان نے اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع میں ضروری اقدامات کیے (فوٹو: اے ایف پی)

افغانستان ہمیشہ بات چیت کا حامی رہا ہے: افغان وزیرِ خارجہ
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ بات چیت کا حامی رہا ہے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کریں گے۔
اتوار کو نئی دہلی میں پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیشتر لوگ امن کے خواہاں ہیں، مگر چند مخصوص حلقے تعلقات میں تناؤ پیدا کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان نے اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع میں ضروری اقدامات کیے اور اپنے اہداف حاصل کیے۔

dailynews

 


پاکستان اور افغانستان جنگ کی خبریں سنیں، اس معاملے کو بھی دیکھوں گا: صدر ٹرمپ

   
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان اور افغانستان کی جنگ کے بارے میں سنا ہے اور وہ اس معاملے کو بھی دیکھیں گے۔
سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان اور افغانستان کے درمیان خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدوں پر شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔ 
افغانستان کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں پر بِلااشتعال فائرنگ کی گئی تھی جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور اور شدید جواب دیا تھا۔
پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان آرمی کے 23 اہلکار جان سے گئے، جبکہ 29 زخمی ہوئے۔
مشرق وسطیٰ روانگی سے قبل ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جنگیں رکوانے کا کام اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں۔‘
انہوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آٹھویں جنگ تھی جس کو حل کیا گیا، اب میں نے سنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں بھی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ میری اپنی واپسی تک انتظار کرنا ہو گا۔ میں ایک اور جنگ کو حل کرنے جا رہا ہوں کیونکہ میں اس کام کو اچھے طریقے سے کر سکتا ہوں اور امن لانے کا کام بھی کر سکتا ہوں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنگیں رکوا کر لاکھوں جانیں بچائیں۔
اس موقع پر انہوں نے امن کے نوبیل انعام کا تذکرہ بھی کیا کہ’ میں نے 2024 اور 25 میں بہت سے کام کیے تاہم میں نے یہ سب کچھ نوبیل انعام کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے کیا تھا۔‘
انہوں نے دیگر جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے علاوہ ان جنگوں کے بارے میں سوچیے جو کئی دہائیوں سے چل رہی تھیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان میں مر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے دنوں میں نے ان جنگوں کا حل ڈھونڈا۔

Saturday, October 11, 2025

afgan pak jang


پاک افغان بارڈر کے مختلف مقامات پر افغانستان سے بلااشتعال فائرنگ

خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان سے کی گئی فائرنگ کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور اور شدید جواب

muhammad ali محمد علی  اتوار 12 اکتوبر 2025  00:00

پاک افغان بارڈر کے مختلف مقامات پر افغانستان سے بلااشتعال فائرنگ
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2025ء) پاک افغان بارڈر کے مختلف مقامات پر افغانستان سے بلااشتعال فائرنگ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں افغانستان سے کی گئی فائرنگ کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھرپور اور شدید جواب۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان سے پاکستان کے کئی مقامات پر رات کی تاریکی میں حملہ کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک افغان سرحد پر افغانستان سے کئی مقامات پر حملہ کیا گیا، اس دوران بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔

(جاری ہے)

 سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز  نے پاک افغان بارڈر  پر انگور اڈا، باجوڑ،کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ کے مقامات پر بھی بِلا اشتعال فائرنگ کی۔ افغان فورسز کی فائرنگ کا مقصد خوارج کی تشکیلوں کو بارڈر پار کروانا بھی تھا۔ اس حملے کے بعد پاک فوج کی جانب سے بھی بھرپور اور شدید جواب دیا گیا ہے۔ پاک فوج کی جوابی کاروائی میں افغانستان میں موجود کئی چک پوسٹیں تباہ ہو گئیں، کئی حملہ آور فرار ہو گئے، جبکہ متعدد مارے گئے جن کی لاشیں افغانستان کی حدود میں بکھری پڑی ہیں۔

اردو پوائنٹ ویڈیوز

Teefi Butt’s End: Case Closed On The Crime King
Pakistan’s First AI Crime Prediction System - Police To Get Instant Alerts Where Crime May Occur
Balaj Tipu Murder: After Teefi Butt, Is Gogi Butt Next?
Punjab rolls out Hi-Tech Mechanization Financing Program Up To 300 Million | Maryam Nawaz Scheme

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں :